الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ آدَابِ رُجُوعِ الْمُسَافِرِ وَعَدَمِ طُرُوقِ أَهْلِهِ لَيْلًا وَصَلَاةِ رَكْعَتَيْنِ باب: مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا¤اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2331
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ رات کو سفر سے واپس آئے اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے پاس پہنچے، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ گھر میں چراغ تھا اور اس کی بیوی کے پاس کوئی فرد تھا۔ پس اس نے تلوار پکڑی، لیکن اتنے میں اس کی بیوی نے کہا: پیچھے ہٹ جا، یہ فلاں عورت ہے، میری کنگھی کر رہی تھی۔ پھر وہ نبی کریم کے پاس آیا اور ساری بات بتلائی، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو اپنے اہل کے پاس آئے۔