حدیث نمبر: 2321
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ: ((يَا أَرْضُ! رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ یا کسی اور سفر کے لیے نکلتے اور راستے میں رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھتے: یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔(اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شرّ سے، تیرے اندر کے شرّ سے، تیرے اندر پیدا کی ہوئی چیزوں کے شرّ سے اور تیرے اوپر رینگنے والی چیزوں کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر قسم کے شیر، شخص، سانپ اور بچھو کے شرّ سے اور اس علاقے میں رہنے والے کے شرّ سے ، (غرضیکہ) ہر جنم دینے والے اور ہر جنم لینے والے کے شرّ سے۔)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2321
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الزبير بن الوليد الشامي، تفرد بالرواية عنه شُريح بن عبيد الحضرمي، أخرجه ابوداود: 2603 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6161»