الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ أَذْكَارٍ يَقُولُهَا الْمُسَافِرُ عِنْدَ إِرَادَةِ السَّفَرِ وَفِي أَثْنَائِهِ عِنْدَ النُّزُولِ وَعِنْدَ باب: ان اذکار کا بیان، جو مسافر سفر کے ارادے کے وقت ، دورانِ سفرکہیں اترتے وقت¤اور اپنے وطن کو واپس ہوتے ہوئے کہتا ہے
حدیث نمبر: 2317
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ: ((اللَّهُمَّ بِكَ أَصُوْلُ وَبِكَ أَحُوْلُ وَبِكَ أَسِيرُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ۔ … اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہی (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں، تیرے ساتھ ہی میں حرکت کرتا ہوں اور تیرے ساتھ ہی میں چلتا ہوں۔