الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ارْكَبْ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي))، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِبَسیّدنا بریدہ اسلمی کہتے ہیں: ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی، جس کے پاس گدھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار جائیں، جبکہ وہ خود پیچھے ہٹنے لگا،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (میں اس کے اگلے حصے پر سوار نہیں ہوں گا، کیونکہ) تو اپنی سواری کے اگلے حصے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے، ہاں اگر تو مجھے اجازت دے دے تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس اگلے حصے پر) سوار ہوگئے۔