الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: ارْكَبْ فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا))، فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَعبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ ، لیکن سیّدنا قیس رضی اللہ عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر( کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔