الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُرَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ إِلَى الْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَٰذِهِ الْإِبِلَ ضِعَافٌ، نَخْشَى أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذِرْوَتِهِ شَيْطَانٌ فَارْكَبُوهُنَّ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِنَّ كَمَا أُمِرْتُمْ ثُمَّ امْتَهِنُوهُنَّ لِأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))سیّدنا ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے کمزور اونٹوں پر سوار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول: یہ اونٹ تو کمزور ہیں، ہمیں تو یہ اندیشہ ہے کہ یہ ہمیں نہ اٹھا سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، اس لیے جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان کو اپنی خدمت کے لیے استعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اٹھاتا ہے (یعنی ان اونٹوں میں بوجھ اٹھانے پر قوت اور صبر پیدا کر دیتا ہے)۔