الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَّمَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: (({سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَٰذَا وَاطْوِعَنَا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا)))، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: ((آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ))سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے علی ازدی کو یہ تعلیم دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے،پھر پڑھتے: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو تابع کیا ہے ، جبکہ ہم اس کو تابع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اوربے شک ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ بے شک ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو، اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان کردے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی ہمارا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تجھ سے پنا ہ مانگتا ہوں سفر کی مشکلات سے، ناکام و غمگین واپس لوٹنے سے اور اپنے گھر اورمال میں برے منظر کو دیکھنے سے ۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اللہ! سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا خلیفہ بن جا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس لوٹتے تویہی کلمات کہتے اور ان میں یہ الفاظ زائد کرتے: واپس لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔