الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَمَّنْ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَهُ عَلَى حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعَسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقُلْ تَعَسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ تَعَسَ الشَّيْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّيْطَانُ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي فَإِذَا قُلْتُ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ (وَفِي لَفْظٍ) تَصَاغَرَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الذُّبَابِ))ابوتمیمہ ہجیمی ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، گدھے کو ٹھوکر لگ گئی، جس پر میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو جائے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اس طرح نہ کہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے تو شیطان دل میں اپنے آپ کو بڑا جاننے لگتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اپنی طاقت سے اس کو گرا دیا ہے، لیکن (جب ایسی صورت میں) تم بسم اللہ کہو گے تو شیطان کا نفس ذلیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مکھی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ مکھی کی طرح چھوٹا بن جاتا ہے۔