الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ باب: سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
عَنْ عَلِّي بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّةِهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهِ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: ((مَا مِنْ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّةَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ))سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی سواری پر بٹھایا ہوا تھا، پس جب آپ سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ الحمد للّٰہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللّٰہ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مسکرائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جوآدمی بھی اپنی سواری پر سوار ہو اور اس طرح کرے، جس طرح میں نے کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں، جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنس پڑا ہوں۔