حدیث نمبر: 2304
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ}، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَيَقُولُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا ، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 2602، والترمذي: 3446 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 753)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 753»