الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ اتِّخَاذِ الرَّفِيقِ فِي السَّفَرِ وَسَبَبِهِ باب: سفر میں ساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ: ارْبَعَا ارْبَعَا حَتَّى رَدَّهُمَا، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: إِنَّ هَٰذَانِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا، فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَٰهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ، قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَلْوَةِعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔