الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ أَفْضَلِ الْأَيَّامِ لِلسَّفَرِ وَتَوْدِيعِ الْمُسَافِرِ وَإِيصَالِهِ وَالدُّعَاءِ لَهُ باب: سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے¤اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2297
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ: تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوں جیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔