حدیث نمبر: 2286
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ يَعْنِي مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِبَابِهِ رَايَتَانِ، رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی نکلنے والا، جو اپنے گھر سے نکلتا ہے، مگر اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں، ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہو تا ہے اور ایک شیطان کے ہاتھ میں، اگر وہ شخص اللہ کے پسندیدہ کام کے لیے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور وہ شخص فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتاہے یہاں تک کہ گھر واپس آ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے کام کے لیے نکلتا ہے جو اللہ کو ناراض کرتا ہے، تو اس کے پیچھے شیطان اپنا جھنڈا لے کر چل پڑتا ہے اور وہ شخص شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہی رہتا ہے یہاں تک کے وہ گھر واپس لوٹ آتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4783، والبيھقي في ’’الزھد‘‘: 699 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8269»