حدیث نمبر: 2168
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، یقینا اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ سے نمازِ وتر کییہ تعداد ثابت ہے: ۱، ۳، ۵، ۷، ۹۔ یہ پانچوں کمیتیں طاق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات بھی طاق ہے، اگرچہ وہ صرف ایک ہے، تینیا پانچ نہیں، لیکن اس سے یہ اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو توحید کس قدر پسند ہے کہ جو چیز طاق ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہ بھی طاق ہے۔ سبحان اللہ۔ اس سے ان لوگوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص چیزوں کو مخلوق کے لیے ثابت کرتے ہیں، مثلا: بشر کو عالم الغیب کہنا، بندے کے لیے نذر و نیاز کرنا، مردوں سے مدد مانگنا، مخلوق کے ماوراء الاسباب سننے کا قائل ہونا اور اس وجہ سے اس کو پکارنا۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، آپ سے گزارش ہے کہ درج ذیل تمام احادیث اور ان کے تحت ذکر کردہ فوائد کا بغور مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، ابن ابي زائدة قد توبع۔ أخرجه ابوداود: 1416، وابن ماجه: 1169، والترمذي: 453، والنسائي: 3/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 877، 1262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 877»