الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا رُوِيَ عَنْ غَيْرِهِمَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 2167
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيهِ وَضُوءَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ كُنْتُ أَنَامُ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ:) ثُمَّ يَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ)) الْهَوِيَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ نمازِ تہجد کی ساری کیفیات اور اذکار میں طوالت ہوتی تھی۔