الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ باب: امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِللنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُتِ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجَرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟حسن عرنی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں گدھے پر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟