الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ باب: امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1503
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔