الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةٌ لِمَنْ صَلَّى خَلْفَهُ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ مُرُورُ شَيْءٍ باب: امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1501
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلْمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ شریعت کی کمال رخصت ہے کہ مقتدی لوگوں کو سترہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، حدیث نمبر (۴۲۶) مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران جماعت بکری کے بچے کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے یعنی پہلی صف کے لوگوں کے سامنے سے گزر گیا۔