الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَ يَدَيْهِ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ باب: جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
حدیث نمبر: 1499
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا قات کرنے کے لیے ہماری بستی میں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز عصر ادا کی، جبکہ ہماری کتوری اور گدھی، جو چر رہی تھی، آپ کے سامنے تھیں، لیکن نہ ان کو پیچھے ہٹایا گیا اور نہ ڈانٹا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔