الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَ يَدَيْهِ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ باب: جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ: فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ، بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِمحمد بن جعفر بن زبیر کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے امیر مدینہ عمر بن عبد العزیز کو یہ حدیث بیان کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ ابو امامہ بن سہل کہنے لگے : ابوعبداللہ ! شاید انھوں نے یہ کہا ہوکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھیں؟یہ سن کر عروہ نے کہا: میں تجھے یقین کے ساتھ خبر دے رہا ہوں اور تو مجھ سے گمان والی بات کر رہا ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) وہ جنازے کی طرح واقعی آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔