حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ، قَالَ حَجَّاجٌ: يَتَقِيْهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، بکری کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچنے کے لیے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ حجاج نے کہا: اس سے بچ رہے تھے اور بچتے بچتے پیچھے ہو گئے، حتی کہ بکری کے بچے کے پیچھے نظر آ نے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والی ہر چیز کو دفع کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے، اس مقصد کے لیے اسے لڑنے، اشارہ کرنے اور نقل و حرکت کی بھی اجازت ہے۔
دیگر نسخوں کو سامنے رکھیں تو مفہوم یہ ہے کہ بکری کا بچہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا جیسے کہ حدیث نمبر ۱۴۹۱ میں گزرا ہے۔ (مزید تفصیل دیکھیں: محقق مسند احمد: ۵/۲۵۷) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 709 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2653، 3174)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3174»