حدیث نمبر: 1491
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دیوار کو قبلہ بنا کر انہیں نماز پڑھا رہے تھے، ایک بکر ی کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے روکتے رہے اور دیوار کے قریب ہوتے گئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ دیوار کے ساتھ لگ گیا اور وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔

وضاحت:
فوائد: … عام دوسری احادیث سے بھییہی ثابت ہوتا ہے کہ دوران جماعت امام کا سترہ مقتدیوں کا بھی سترہ ہوتا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے اس مسئلہ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ دوران جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے بکری کے بچے کے گزرنے کا یہ مطلب ہوا کہ وہ پہلی صف کے نمازیوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔
لغت میں بَہْمَۃٌ کا اطلاق بھیڑ کے نر اور مادہ بچے پر ہوتا ہے، لیکن تغلیباً بکری کے بچے کو بھی کہہ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابوداود: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6852م)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6852»