الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ دَفْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مِنْ آدَمِيٍّ وَغَيْرِهِ باب: نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1490
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَعْلَى الْوَادِي نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ، قَدْ قَامَ وَقُمْنَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شَعْبِ أَبِي دُبٍّ شَعْبِ أَبِي مُوسَى فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ فَلَمْ يُكَبِّرْ وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبُ بْنُ زَمْعَةَ حَتَّى رَدَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی وادی کے بالائی حصے میں تھے، ہم چاہتے تھے کہ نماز پڑھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے، لیکن اچانک شعبِ ابی دبّ یعنی شعبِ ابی موسیٰ سے ایک گدھا ہماری طرف نکل آیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اورتکبیر نہ کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف دوڑایا حتی کہ ا س نے اسے واپس لوٹا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ میں ایک وادی کا نام شعب ابی دبّ ہے، آج کل اس کو دَحْلَۃ الجِنّ کہتے ہیں، کسی راوی نے اس گھاٹی کے مقام کی وضاحت کرنے کے لیے شعب ِ ابی موسی کہا ہے، نہ کہ اس لیے کہ عہد نبوی مین یہ اس کا دوسرا نام تھا۔