الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ دَفْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مِنْ آدَمِيٍّ وَغَيْرِهِ باب: نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1488
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيَّ فَمَنَعْتُهُ فَأَبَى، فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا ، میرے سامنے سے ایک آدمی گزرا،میں نے اسے روکا، لیکن اس نے رکنے سے انکار کردیا۔ پھرمیں نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! وہ تجھے نقصان نہیں دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ اس نمازی کو اس سے زیادہ روکنے کی طاقت نہ ہو، اس لیے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے یہ بات کہی ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طاقت کے مطابق گزرنے والے کو روکنے کی تلقین کی ہے۔ بہرحال یہ موقوف روایت ہے، اس باب میں مرفوع احادیث واضح ہیں۔