حدیث نمبر: 1487
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ: فَرَجَعَ، قَالَ: فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، قَالَ: فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هُنَّ أَغْلَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

محمد بن قیس اپنی ماں سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے آگے سے عبد اللہ یا عمر رضی اللہ عنہما گزرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے (ان کو واپس ہو جانے کا) اشارہ کیا، پس وہ واپس چلے گئے، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی گزرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو روکنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اسی طرح ا شارہ کیا، لیکن وہ گزر گئی’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: یہ عورتیں (مخالفت کرنے میں) زیادہ غالب ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1487
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن قيس، أخرجه ابن ماجه: 948 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26523)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27058»