الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ دَفْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مِنْ آدَمِيٍّ وَغَيْرِهِ باب: نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹائے،اگر وہ (رکنے سے) انکار کرے تواس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
وضاحت:
فوائد: … گزرنے والے پر شیطان کا اطلاق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شیطانی فعل کر رہا ہے۔