حدیث نمبر: 1482
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں طرف، ایک بائیں طرف اورتین اپنے پیچھے کر کے نماز پڑھی تھی، جبکہ قبلہ او رآپ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سترہ کے قریب ہونے کی مقدار ہے، تین ہاتھ کا فاصلہ ساڑھے چار فٹ کے برابر ہوتا ہے، عام طور پرنماز کے لیے بچھائی جانے والی صفوں کی مقدار بھییہی ہوتی ہے۔ اونٹ کے پالان کی پچھلی لکڑی کی مقدار کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) ایک ہاتھ (ڈیڑھ فٹ) اور (۲) دو تہائی ہاتھ (ایک فٹ)، دوسرا قول زیادہ مشہور ہے۔ سترے کی مقدار کا خلاصہ یہ ہوا کہ وہ اس کی اونچائی کم از کم ایک فٹ ہونی چاہیے، ڈیڑھ فٹ کا اہتمام کرنا زیادہ محتاط عمل ہے، چوڑائی کے بارے میں کوئی قید نہیں، وہ دیوار اور ستون بھی ہو سکتا ہے اور کوئی برچھی اور تیر وغیرہ بھی۔
مذکورہ بالا احادیث سے سترہ کی اہمیت واضح ہو رہی ہے، مزید احادیث و اقوال یہ ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَلِّ اِلَّا اِلٰی سُتْرَۃٍ، وَلَاتَدَعْ اَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْکَ، فَاِنْ اَبٰی فَلْتُقَاتِلْہُ فَاِنَّ مَعَہُ الْقَرِیْنَ۔)) یعنی: تو نماز ادا نہ کر مگر سترہ کی طرف اور کسی کو سامنے سے نہ گزرنے
دے، اگر کوئی رکنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے لڑائی کر، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔ (صحیح مسلم، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ واللفظ لہ) سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیُصَلِّ اِلٰی سُتْرَۃٍ وَلْیَدْنُ مِنْھَا، …۔)) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ (ابو داود، ابن ماجہ) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((لَقَدْ رَاَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَھُمْ کَذَالِکَ یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔)) یعنی: میں صحابہ کو دیکھتا کہ وہ مغرب کے وقت (اذان ِ مغرب کے بعد نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھنے کے لیے) ستونوں کی طرف لپکتے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آتے۔ اور ایک روایت میں ہے: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو) وہ مغرب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری) قرہ بن ایاس تابعی کہتے ہیں: میں دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے میری گدی سے پکڑا اور مجھے سترے کے قریب کر کے کہا: اس کی طرف نماز پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری معلقا، مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترے کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ اس کے سامنے سے شیطان نہ گزرتا رہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: چار چیزیں اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہیں: (۱) آدمی کا سترے کے بغیر نماز پڑھنا، …۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی) جناب ِ نافع تابعی کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ستونوں تک نہ پہنچ پاتے تو مجھے کہتے: اپنی پیٹھ میری طرف پھیر کر (میرے سامنے ہو جاؤ)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) ان دلائل اور آثار کے باوجود اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس سنت سے غافل ہے، قارئین کو ان دلائل کی روشنی میں اپنے کیے کا جائزہ لے لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 505 ، ومسلم: 1329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4891، 5927) ۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24391»