الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى باب: نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1481
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ستون یا لکڑی یا درخت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہو، مگر آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں سمت کی طرف کر لیتے او ربالکل اس کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس باب کی دوسری احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ نمازی کے سامنے کم از کم اونٹ کی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہونی چاہیے۔