الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى باب: نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1479
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْبَطْحَاءِ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ قَدْ أَقَامَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا النَّاسُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ: قِيلَ لَهُ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَبْرِي النَّبْلِ وَأَرِيشُهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ابطح یا بطحاء میں ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔ آپ کے سامنے وہ برچھی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا، اس کے پیچھے سے لوگ، گدھے اور عورتیں گزرتے رہے۔ ایک روایت میں ہے: ان سے پوچھا گیا کہ تم اس وقت کس جیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:میں تیر درست کرتا تھا او را س کے پر بناتا تھا۔