الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى باب: نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1478
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رُكِزَتِ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے برچھی گاڑ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور گدھا برچھی کے پیچھے سے گزرتا رہا۔