الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ السُّتْرَةِ لِلْمُصَلِّي وَالدُّنُوِّ مِنْهَا وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَكُونُ وَأَيْنَ تَكُونُ مِنْ الْمُصَلَّى باب: نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1476
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دونوں عیدوں کی نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑدیا جاتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث مبارکہ کا تعلق اگرچہ میدانیا کھلی جگہ سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب کیسے کشید کر لیا جائے کہ مساجد اور گھروں میں سترے کی ضرورت نہیں ہے، ایک مقام پر ایک سنت کا اہتمام کرنے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ دوسرے مقام پر اس کی اہمیت کم ہو جائے، جبکہ عام حکم بھی موجود ہو اور مساجد کے اندر سترے کا اہتمام کرنے کی احادیث بھی موجود ہوں۔