حدیث نمبر: 1475
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَيَعْرِضُ الْبَعِيرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: سَأَلْتُ نَافِعًا فَقُلْتُ: إِذَا ذَهَبَتِ الْإِبِلُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: كَانَ يَعْرِضُ مُؤَخَّرَةَ الرَّحْلِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ (وَفِي لَفْظٍ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبید اللہ بن نافع ، سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اور قبلہ کے درمیان (یعنی اپنے سامنے) اونٹ بٹھا کرنماز پڑھتے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع سے سوال کیا: جب اونٹ چلا جاتا تو سیّدنا ابن عمر کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تو وہ اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی رکھ لیتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری کے سامنے ہوتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا نماز میں اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام تھا، کیا آج اس قسم کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی سنت کو زیادہ اہم یا کم اہم قرار دینے کا دارومدار ہمارے مزاج یا ذہن پر نہیں ہے، بلکہ آیات و احادیث پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 507، ومسلم: 502 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4468، 6128)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6128»