حدیث نمبر: 1462
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … عام قارئین کے لیے درج بالا احادیث میں تناقض پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، لیکن سیّدنا بلال اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ اس میں حقیقت میں تضاد کی کوئی صورت نہیں پائی جا رہی، محدثین کااس امر پر اتفاق ہے کہ اس باب میں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہی لیا جائے گا، کیونکہ ان کے پاس زیادہ علم ہے اور ان کی حدیث مثبت ہے، جس کو نفی والی حدیث پر مقدّم کیا جاتا ہے۔ پورے واقعہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے بیت اللہ میںداخل ہو کر دراوزہ بند کر دیا تھا اور ہر کوئی دعا میں مصروف ہو گیا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا ہو اور سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا ہو۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں، جیسا امام ابن حبان نے کہا: میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے، فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر داخل تو ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (تلخیص از صحیح ابن حبان: ۷/ ۴۸۳) تطبیق کے بعد معلوم ہوا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر فرضی اور نفلی دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہیں، امام احمد اور امام ابوحنیفہ سمیت جمہوراہل علم کا یہی خیال ہے، کیونکہ ایسی غیر اضطراری صورت میں نفل اور فرض دونوں نمازوں کے لیے قبلہ کا ایک حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1462
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، أخرجه الطيالسي: 1365، والطبراني في الكبير : 8398، والبيھقي في السنن : 2/ 328 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15462»