حدیث نمبر: 1455
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں، جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جب وہ گواہی دے دیں گے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کریں گے، ہمارا ذبیحہ کھائیں گے او رہماری نماز پڑھیں گے تو ان کے خون و مال ہم پر حرام ہو جائیں گے،مگر حق کے ساتھ اوران کے لیے وہی ہو گا جو دوسرے عام مسلمانوں کے لیے ہے اور ان پر بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کتاب الایمان کے باب نمبر (۹) میں اس حدیث کی شرح گزر چکی ہے۔ خون اور مال کی حفاظت کے لیے ادائیگی ٔ نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کرنے کو شرط قرار دینے سے اس فریضہ کی اہمیت کا پتہ چل رہا ہے، مذاہب عالم میں کعبہ کو قبلہ قرار دینا صرف اسلام کی خاصیت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1455
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13056)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13087»