الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مُدَّةِ اسْتِقْبَالِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَتَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنْهُ إِلَى الْكَعْبَةِ باب: بیت المقدس کے قبلہ رہنے کی مدت اورپھر کعبہ کی طرف تحویلِ قبلہ کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ وَأَبِي مَرْيَمَ وَأَبِي شُعَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ بِالْجَابِيَةِ فَذَكَرَ فَتْحَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَحَدَّثَنِي أَبُو سِنَانٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ آدَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لِكَعْبٍ أَيْنَ تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ؟ فَقَالَ: إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ، فَكَانَتِ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ: ضَيَّحْتُ الْيَهُودِيَّةَ، لَا، وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ فَكَنَسَ الْكُنَاسَةَ فِي رِدَائِهِ وَكَنَسَ النَّاسُعبید بن آدم، ابو مریم ، اور ابو شعیب سے مروی ہے کہ سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ میں تھے ۔ پھر راوی نے بیت المقدس کی فتح کا ذکر کیا۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: مجھے ابوسفیان نے عبید بن آدم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ سیّدنا کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے: میں نماز کہاں پڑھوں، آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میری رائے لینا چاہتے ہو تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھ لو، سارے کا سارا قدس آپ کے سامنے آجائے گا، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس طرح تو یہودیت کی مشابہت اختیار کرلوں گا، نہیں ، لیکن میں وہاں نماز پڑھوں گا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازپڑھی تھی۔ پھر وہ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آکر صفائی کی اور کوڑا اپنی چادر میں اکٹھا کر لیا اور پھر لوگوں نے بھی صفائی کی ۔