حدیث نمبر: 1450
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قباء میں کچھ لوگ نمازِ فجر ادا کررہے تھے، ان کے پاس ایک آنے والے نے آکر کہا: رات رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے ، جس کے مطابق آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم بھی اس کی طرف منہ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، وہ (یہ اعلان سن کر) کعبہ کی طرف پھر گئے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی آدمی ناسمجھی اور لاعلمی کی بنا پر غیر قبلہ کی طرف شروع کر دیتا ہے تو اس کی نماز درست ہو گی اور دورانِ نماز علم ہو جانے کی صورت میں وہ نماز کو جاری رکھتے ہوئے قبلہ کی طرف گھوم جائے گا۔ شرعی احکام میں خبر واحد قطعی حجت ہے، صحابہ کرام کی جماعت نے ایک آدمی کی خبر کی بنا پر اپنا قبلہ تبدیل کر لیا تھا۔ حدیث ِ مبارکہ بھی قرآن مجید کی طرح حجت ہے، کیونکہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا، قرآن مجید میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہیں، جبکہ صحابہ کرام سولہ سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہ عمل احادیث کی روشنی میں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 503، 4491، ومسلم: 526 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5934)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5934»