الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابٌ فِي الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ النَّوْمِ وَشَعْرِ النِّسَاءِ وَحُكْمِ ثَوْبِ الصَّغِيرِ باب: سونے والے کپڑے اور عورتوں کی شمیزوں میں نماز پڑھنے کا بیان اور چھوٹے بچے کے کپڑے کا حکم
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ قَالَ: ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا، قَالَ بِشْرٌ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتایا گیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری شمیزوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایک راوی بشر کہتے ہیں کہ یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے سے مراد وہ لباس ہے جو بدن کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے، اس کو تحتانی لباس کہتے ہیں، ہمارے ہاں عام طور پر عورتوں کے ایسے کپڑے کو شمیز کہا جاتا ہے۔