الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ وَالْبُسُطِ وَالْفِرَاءِ وَالْخُمْرَةِ باب: چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1439
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُبَمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا قَالَ: وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ہمارے گھر میں تشریف لاتے تھے، اگر نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی تھی، پس اسے صاف کرکے اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ ان کی یہ چٹائی کھجور کے پتوں سے بنی ہوتی تھی۔