الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ وَالْبُسُطِ وَالْفِرَاءِ وَالْخُمْرَةِ باب: چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَنَعَ بَعْضُ عَمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، قَالَ: فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا؛ اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، گھر میں کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوں میں سے ایک چٹائی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے صاف کر کے اس پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔