حدیث نمبر: 1433
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ: مَا أَدْرَكْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ وَهُوَ غُلَامٌ حَدِيثٌ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِنَا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، قَالَ: فَجِئْنَا فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَجَلَسَ إِلَيْهِ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَجْلِسَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) محمد بن اسماعیل سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن ابی حبیبہ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا (علمی چیز) حاصل کی؟ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تھے تو اس وقت یہ نو عمر لڑکے تھے، بہرحال انہوں نے جواب دیا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہماری مسجد یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے ، ہم بھی آکر آپ کے پاس بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا آپ بیٹھے رہے، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … پہلی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درختوں کے سائے میں بیٹھے تھے، جبکہ دوسری روایت کے مطابق آپ مسجد میں جلوہ افروز ہوئے؟ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے سائے میں ہی بیٹھے ہوں، پھر پانی پی کر مسجد میں جا کر بیٹھ گئے ہوں۔ پہلی روایت میں فِیْ فَیْئِ الْاَحْمَر کی بجائے فِیْ فِنَائِ الْأَجْم کے الفاظ زیادہ واضح اور ظاہر ہیں، اول اذکر الفاظ کا کوئی معنی سمجھ نہیں آ رہا۔ اور لفظ الأجم کو تین طرح سے پڑھا جا سکتا ہے: (۱) … ’ ’الأَجْم، اس کے معانی چھت والے گھر کے ہیں، اور فِنَائ کے معانی صحن اور فَیْئ کے معانی سائے کے ہیں۔
(۲) … الأُجُم، اس کے معانی محل یا قلعہ کے ہیں۔
(۳) … الأَجَم، یہ الأَجَمَۃ کی جمع ہے، اس کے معانی گھنے اور گنجان درختوں کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الله بن ابي حبيبة۔ وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18951)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19159»