الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ باب: جوتوں میں نماز پڑھنے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ: مَا أَدْرَكْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ وَهُوَ غُلَامٌ حَدِيثٌ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِنَا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، قَالَ: فَجِئْنَا فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَجَلَسَ إِلَيْهِ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَجْلِسَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ(دوسری سند) محمد بن اسماعیل سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن ابی حبیبہ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا (علمی چیز) حاصل کی؟ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تھے تو اس وقت یہ نو عمر لڑکے تھے، بہرحال انہوں نے جواب دیا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہماری مسجد یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے ، ہم بھی آکر آپ کے پاس بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا آپ بیٹھے رہے، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔
(۲) … الأُجُم، اس کے معانی محل یا قلعہ کے ہیں۔
(۳) … الأَجَم، یہ الأَجَمَۃ کی جمع ہے، اس کے معانی گھنے اور گنجان درختوں کے ہیں۔