الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ فِي النَّعْلِ باب: جوتوں میں نماز پڑھنے کا بیان
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ أَنَّهُ أَدْرَكَهُ شَيْخًا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءٍ فَجَلَسَ فِي فَيْءِ الْأَحْمَرِ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي فِنَاءِ الْأَجْمِ) وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَاسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسُقِيَ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَحَفِظْتُ أَنَّهُ صَلَّى بِنَا يَوْمَئِذٍ الصَّلَاةَ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ لَمْ يَنْزَعْهُمَامجمع بن یعقوب اہل قبا کے ایک ایسے لڑکے سے بیان کرتے ہیں، جس کوانہوں نے بڑھاپے کی حالت میں پایا تھا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس قبا میں آئے تو گھنے درختوں کے سائے میں بیٹھ گئے اور لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا، پس آپ کو پانی دے دیا گیا اور آپ نے پی لیا۔ میں آپ کی دائیں طرف تھا اور میں لوگوں میں نو عمرلڑکا تھا، پھر آپ نے (پیالہ) مجھے پکڑا دیا اور میں نے بھی اس سے پانی پیا۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تھی، جبکہ آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور انہیں اتارا نہیں تھا۔