الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ الْأَمَاكِنِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا وَالْمَأْذُونِ فِيهَا لِلصَّلَاةِ باب: ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
حدیث نمبر: 1424
عَنِ ابْنِ مُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتُمْ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا، وَإِذَا حَضَرَتْ وَأَنْتُمْ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَلَا تُصَلُّوا، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے اور تم بکریوں کے باڑوں میں ہو تو نماز پڑھ لیا کرو، لیکن جب نماز حاضر ہو جائے اور تم اونٹوں کے باڑوں میں ہو تو وہاں نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطانوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اونٹوں کو شیطانوں سے پیدا کیا گیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے مزاج میں نفرت اور سرکشی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نماز خراب ہو سکتی ہے یا نمازی کا نقصان ہو سکتا ہے، عرب لوگ ہر سرکش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔