الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ كَرَاهِيَةِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالْاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ باب: ااشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ اور ایک کپڑے میں گوٹھ مانے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1418
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔
وضاحت:
فوائد: … اشتمال الصمائ اور گوٹھ مارنے کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع کیا گیا، کیونکہیہ دونوں شیطان کی عادتیں ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لِیَأْکُلْ أَحَدُکُمْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَشْرَبْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَأْخُذْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیُعْطِ بِیَمِیْنِہٖ، فَإِنَّ الشَّیْطَانُیَأْکُلُ بِشِمَالِہٖ،وَیَشْرَبُ بِشِمَالِہٖ،وَیُعْطِیْ بِشِمَالِہٖ،وَیَأْخُذُ بِشِمَالِہٖ۔)) یعنی: ہر کوئی دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں سے پئے، دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے ہی دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲/۳۰۳، احمد: ۲/۳۲۵/ ۳۴۹، صحیحہ: ۱۲۳۶)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَمْشِيْ فِيْ النَّعْلِ الْوَاحِدَۃِ۔)) یعنی: بیشک شیطان ایک جوتا پہن کر چلتا ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۱۴۲، الصحیحۃ: ۳۴۸)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَمْشِيْ فِيْ النَّعْلِ الْوَاحِدَۃِ۔)) یعنی: بیشک شیطان ایک جوتا پہن کر چلتا ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۱۴۲، الصحیحۃ: ۳۴۸)