الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبَيْنِ وَجَوَازِهَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ تَبْدُو مِنْ عَوْرَتِهِ باب: دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان¤اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلرَّجُلِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَزَرَّ بِهِ ثُمَّ لْيُصَلِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ كَمَا تَفْعَلُ الْيَهُودُ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَوْ قُلْتُ لَكَ إِنَّهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُنافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے ازار بنا کر نماز پڑھ لیا کرے، کیونکہ میں نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تھا۔ اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب ایک ہی کپڑا ہو تو اس سے اس طرح التحاف نہ کیا کرو، جس طرح کہ یہودی کرتے ہیں۔ نافع کہتے ہیں: اگر میں یہ کہہ دوں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا تو مجھے امید ہے کہ جھوٹا نہیں قرار پاؤں گا۔
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔