حدیث نمبر: 1414
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلرَّجُلِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَزَرَّ بِهِ ثُمَّ لْيُصَلِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ كَمَا تَفْعَلُ الْيَهُودُ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَوْ قُلْتُ لَكَ إِنَّهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے ازار بنا کر نماز پڑھ لیا کرے، کیونکہ میں نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تھا۔ اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب ایک ہی کپڑا ہو تو اس سے اس طرح التحاف نہ کیا کرو، جس طرح کہ یہودی کرتے ہیں۔ نافع کہتے ہیں: اگر میں یہ کہہ دوں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا تو مجھے امید ہے کہ جھوٹا نہیں قرار پاؤں گا۔

وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی دوسری روایت (۶۳۵۶) کے الفاظ یہ ہیں: انھوں نے کہا: لَایَشْتَمِلْ اَحَدُکُمْ فِیْ الصَّلَاۃِ اِشْتِمَالَ الْیَھُوْدِ، لِیَتَوَشَّحْ، مَنْ کَانَ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ وَلْیَرْتَدْ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِیُصَلِّ۔ یعنی: کوئی آدمی نماز مین یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹا کرے، البتہ توشیح کر لیا کرے، جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ایک سے ازار بنا لے اور ایک سے اوپر والی چادر، اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ صرف ازارباندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔ (یہودیوں کی طرح لپیٹنے سے مراد یہ ہے کہ ایک کپڑے کو یوں لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔)
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 635 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 96، 6356)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 96»