حدیث نمبر: 1405
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ مَا أَدْرَكْتَ مِنَ النَّبِيِّ؟ قَالَ: رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِئْرِ بَنِي مُطَيْعٍ مُتَلَبِّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) عبد الرحمن بن کیسان کہتے ہیں:میں نے اپنے باپ سیّدنا کیسان رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا چیز پائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو بنو مطیع کے کنویں بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز دو رکعت پڑھی۔

وضاحت:
فوائد: … توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔ مُتَلَبِّبًا: سینے پر کپڑے کو جمع کیا ہوا تھا، یعنی توشیح والی صورت اختیار کی ہوئی تھی۔ اس انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی چادر سے ستر بھی ڈھانپ لیا اور کندھوں پر بھی کپڑا کر لیا۔ لیکنیہ عمل اس وقت ہو گا جب چادر کھلی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 1051، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15446)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15525»