حدیث نمبر: 1398
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِي عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا نہ اتارتے حتی کہ اپنی شرمگاہ پانی میں چھپا لیتے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غور کیا جائے کہ کیا درج ذیل روایت اس کا شاہد بن سکتی ہے: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے نہاتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام حیادار اور پردہ دار ہونے کی وجہ سے پردہ کر کے نہاتے تھے۔ ان کیقوم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کی شرمگاہ میں کوئی عیب ہے، اس لیےیہ پردہ کرتے ہیں۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ کر نہا رہے تھے، اچانک وہ پتھر کپڑوں سمیت چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس کے تعاقب میں چل پڑے: پتھر! میرےکپڑے، پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گئے، … … (مسند احمد: ۹۰۹۱، صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹) بہرحال یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام غسل کے وقت پردے کا انتظام کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1398
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13764)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13800»