الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ سَتْرِ الْعَوْرَةِ باب: ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1397
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد ، مرد کے ستر کی طرف اور عورت، عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور مرد ایک ہی کپڑے میں دوسرے مرد کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کی طرف پہنچے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا معنییہ ہے کہ مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں داخل نہ ہوں، کیونکہ اس صورت میں ایک کا ننگا جسم دوسرے کے ننگے جسم کو ٹچ کرے گا، بے پردگی ہو گی اوراگر وہ خود محرم بھی ہوں تو خیالات ضرور بگڑیں گے اور غیر محرم کو اس حالت میں دیکھنے کا شیطانی وسوسہ پیدا ہو گا اور مزید فساد … رہا مسئلہ ایک دوسرے ساتھ سونے کا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو علیحدہ علیحدہ سلانے کا حکم دیا ہے۔