الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ حُجَّةِ مَنْ لَمْ يَرَ أَنَّ الْفَخْذَ وَالسُّرَّةَ مِنَ الْعَوْرَةِ باب: جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (الحديث)سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے خیبر کے پاس اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے ، جبکہ میں ابو طلحہ کا ردیف تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر کے بازاروں میں اپنا گھوڑا دوڑایا اور میرے گھٹنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رانوں کو لگ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تہبندرانوں سے ہٹا ہوا تھا اورمیں اللہ کے نبی کی رانوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔