الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ حَدِّ الْعَوْرَةِ وَبَيَانِهَا وَحُجَّةِ مَنْ قَالَ أَنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ باب: عورۃ اور اس کی حد کا اورران کو پردہ قرار دینے والے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 1392
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَتَانِ فَقَالَ: ((يَا مَعْمَرُ! غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الْفَخِذَيْنِ عَوْرَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اوران ہی سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم معمر کے پاس سے گزرے اور ان کی رانیں ننگی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: معمر! اپنی رانیں ڈھانپ لو کیونکہ رانیں بھی عورہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کی ران بھی پردہ والی جگہ ہے، اس کو ڈھانپا جائے۔ اگلے باب میں مسئلہ کی تحقیق پیش کی جائے گی۔ قارئین سے التماس ہے کہ وہ تمام نصوص کا بغور جائزہ لیں۔