حدیث نمبر: 1387
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا أَنْكَحَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَوْرَتِهِ، فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ عَوْرَتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بیٹے سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نماز کا حکم دینا شروع کر دیا کرو،جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز میں سستی کی وجہ سے) ان کی پٹائی کیا کرواور بستروں میں ا نہیں علیحدہ علیحدہ کردیا کرو اور جب کوئی آدمی اپنی لونڈی کا اپنے غلام یا اپنے مزدور کے ساتھ نکاح کر دے تو وہ اس کے (ستر) عورۃ (یعنی ستر) کی طرف نہ دیکھا کرے،(یاد رہے کہ) عورہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1387
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه بطوله ابوداود: 496 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6756)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6756»